The Pearl Institute of Science&arts Muzaffargarh

میں کل سے دھاڑیں مار مار کر ہنس رہا ہوں اور زارو قطار قہقہے لگارہا ہوں۔ میرا ایک دوست پرائیویٹ سکول میں ٹیچر ہے اور میٹرک کی اردو کی کلاس پڑھاتا ہے‘ اس نے اپنے سٹوڈنٹس کا ٹیسٹ لینے کے لیے انہیں کچھ اشعار تشریح کرنے کے لیے دیے۔ جواب میں جو سامنے آیا وہ اپنی جگہ ایک ماسٹر پیس ہے۔ املاء سے تشریح تک سٹوڈنٹس نے ایک نئی زبان کی بنیاد رکھ دی ہے۔ میں نے اپنے دوست کی اجازت سے اِن پیپرز میں سے اپنے کالم کے لیے نقل ماری ہے‘ اسے پڑھئے اور دیکھئے کہ پاکستان میں کیسا کیسا ٹیلنٹ بھرا ہوا ہے۔ سوالنامہ میں جس پہلے شعر کی تشریح کرنے کے لیے کہا گیا وہ یہ تھا۔۔۔۔۔۔!!!
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
ایک ذہین طالبعلم نے لکھا کہ’’اِس شعر میں مستنصر حسین تارڑ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے انہوں نے ایک دن سوچا کہ کیوں نہ فقیر بن کے پیسہ کمایا جائے‘ لہٰذا وہ کشکول پکڑ کر ’چونک‘ میں کھڑے ہوگئے‘ اُسی ’چونک ‘ میں ایک مداری اہل کرم کا تماشا کر رہا تھا‘ شاعر کو وہ تماشا اتنا پسند آیا کہ وہ بھیک مانگنے کی ’باجائے‘ وہ تماشا دیکھنے لگ گیا اور یوں کچھ بھی نہ کما سکا۔۔۔۔۔۔!!!" اگلا شعر تھا
رنجش ہی سہی‘ دل ہی دُکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
مستقبل کے ایک معمار نے اس کی تشریح کچھ یوں کی کہ’’یہ شعر نہیں بلکہ گانا ہے اور اس میں ’مہندی حسن‘ نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اے میرے محبوب تم میرا دل دُکھانے کے لیے آجاؤ لیکن جلدی جلدی مجھے چھوڑ کے چلے جانا کیونکہ مجھے ایک فنکشن میں جانا ہے اور میں لیٹ ہو رہا ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘ تیسرا شعر تھا۔۔۔۔۔۔!!!
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریاہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
ایک لائق فائق طالبہ نے اس کی تشریح کا حق ادا کر دیا۔۔۔۔۔۔ پورے یقین کے ساتھ لکھا کہ ’’یہ شعر ثابت کرتا ہے کہ شاعر ایک کافر اور گنہگار شخص ہے جو موت اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا اور خود کو دریا کہتا پھرتا ہے ‘اس شعر میں بھی یہ شاعر یہی دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ دریا ہے لہذا مرنے کے بعد بحرِ اوقیانوس میں شامل ہو جائے گا اور یوں منکر نکیر کی پوچھ گچھ سے بچ جائے گا‘ لیکن ایسا ہوگا نہیں کیونکہ آخرت برحق ہے اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اللہ اسے ہدایت دے۔ آمین۔۔۔۔۔۔!!!ا گلا شعر یہ تھا۔۔۔۔۔۔!!!
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
ایک سقراط نے اس کو یوں کھولا کہ ’’اس شعر میں شاعر کوئے یار سے لمبا سفر کر کے راولپنڈی کے ’فیض آباد‘ چوک تک ’پونچا‘ ہے لیکن اسے یہ مقام پسند نہیں آیا کیونکہ یہاں بہت شور ہے‘ شاعر یہاں سے نکل کر ٹھنڈے اور پرفضا مقام ’دار‘ پر جانا چاہتا ہے اور کہہ رہاہے کہ بے شک اسے سوئے مارے جائیں‘ وہ ہر حال میں ’دار ‘ تک پہنچ کر ہی دم لے گا۔۔۔۔۔۔!!!‘‘ اگلا شعر یہ تھا۔۔۔۔۔۔۔!!!
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
جواب تھا کہ ’’یہ شعر وصی شاہ کا ہے اور اس میں انہوں نے بڑی ’محارت‘ سے یہ بتایا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو زیادہ سے زیادہ بلند کر لیں‘ اونچی اونچی بلڈنگیں بنائیں تاکہ خدا سے اتنے قریب ہو جائیں کہ خدا آرام سے ہم سے پوچھ لے کہ اے میرے بندے آخر تم اور کتنی ’اُنچی‘ منزلیں بنانا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟‘‘ اگلا شعر پھر بڑا مشکل تھا۔۔۔۔۔!!!
سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
نئی تشریح کے ساتھ اس کا ایک جواب کچھ یوں ملا کہ ’’اس شعر میں حامد میر نے اپنی مصروفیات کا رونا رویا ہے‘ وہ دن بھر مصروف رہتے ہیں‘ رات کو ٹی وی پر ٹاک شو کرتے ہیں‘ ان کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی‘ ہر روز شیو کرتے ہوئے اُنہیں ’ٹک‘ بھی لگ جاتا ہے اور اتنی زور کا لگتا ہے کہ وہ سارا دن روتے رہتے ہیں اور روتے روتے سو جاتے ہیں لہٰذا وہ اپنی فیملی سے کہہ رہے ہیں کہ میرے سرہانے آہستہ بولا کرو‘‘۔ اگلا شعر پھر ایک نیا امتحان تھا۔۔۔۔۔۔۔!!!
محبت مجھے اُن جوانو ں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
ایک محنت کش سٹوڈنٹ نے اس کی بہترین تشریح کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ مجھے صرف سلمہ ستارے کا کام کرنے والے جوان اچھے لگتے ہیں اور مجھے محبت بھی انہی سے ہے کیونکہ وہ سارا سارا دن کھڈی پر کمند ڈال کر سوئی دھاگے سے کپڑوں پر ستارے لگاتے ہیں اور اسی چکر میں اپنی آنکھیں بھی خراب کر بیٹھتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘ آخری شعر یہ تھا۔۔۔۔۔۔!!!
نشیمن پر نشیمن اس طرح تعمیر کرتا جا
کہ بجلی گرتے گرتے آپ ہی بیزار ہوجائے
اس شعر سے بھرپور انتقام لیتے ہوئے ایک لڑکی نے لکھا کہ ’’اس شعر میں شاعر لوڈشیڈنگ سے بہت تنگ نظر آتا ہے اور لگتا ہے شاعر کے گھر میں نہ UPS ہے نہ چار جنگ والا پنکھا‘ اسی لیے وہ کہہ رہا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر‘ نشیمن یعنی کہ بڑے بڑے ڈیم بنانے چاہئیں تاکہ لوڈشیڈنگ سے بیزار عوام کو کچھ ریلیف مل سکے‘ اس شعر میں شاعر نے ڈھکے چھپے لفظوں میں واضح کر دیا ہے کہ جب تک ’کالا باغ نشیمن‘ نہیں بنے گا‘ بجلی کا ’ماسالا‘ حل نہیں ہوگا۔
(اقتباس: گل نوخیز اختر کے کالم "سبحان اللہ" سے)
شہزادی